منگلورو 6/ فروری (ایس او نیوز) ہم خیال سماجی تنظیموں کے فیڈریشن نے حجاب کا مسئلہ کھڑا کرنے اور ماحول خراب کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کلاک ٹاور کے پاس احتجاجی مظاہرا کیا ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت منافرت اور دشمنی کے بیچ بو رہی ہے ۔ سنگھ پریوار کی طرف سے تعلیمی اداروں میں تنازع کھڑا کرتے ہوئے فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کی سازش رچی جا رہی ہے ۔
دلت تنظیموں کے لیڈر ایم دیو داس نے کہا : آج مسلم لڑکیاں بھی تعلیم پا کر اعلیٰ مقام اور منصب تک پہنچ رہی ہیں ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار سے یہ چیز برداشت نہیں ہورہی ہے ۔ حجاب تنازع کے پیچھے مسلم لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کی سازش کام کررہی ہے ۔ اس کے خلاف اس وقت آواز اٹھانا ضروری ہے ۔ ورنہ دیش کس رخ پر جائے گا یہ کہا نہیں جا سکتا ۔
ڈاکٹر کرشنپّا کونچاڈی نے کہا اڈپی اور کنداپور سرکاری کالج کے پرنسپالوں کے اندر نسلی تعصب بھرا ہوا ہے ۔ جو مسئلہ کھڑا ہوا تھا اسے حل کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھانے کی پاداش میں ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔
ڈی وائی ایف آئی کے ریاستی صدر منیر کاٹیپلّی نے کہا سنگھ پریوار کے نلین کمار کٹیل ، پرتاپ سنہا، وزیر سنیل کمار اور ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ حجاب کے سلسلے میں جو منھ میں آیا وہ بول رہے ہیں ۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا سرکاری اسکول اور کالجوں میں مالی طور پر کمزور مسلم طالبات کا حجاب پہننا ہی ان لوگوں کے لئے بڑا مسئلہ بن گیا ہے ؟
ایڈوکیٹ دنیش ہیگڈے ، ریٹائرڈ پروفیسر پٹّا بھیرام سومیاجی ، سی پی ایم لیڈر یادو شیٹی ، سنیل کمار بجال، دیانند شیٹی ، پدماوتی شیٹی ، جے ڈی ایس لیڈر سومتی ہیگڈے اور مختلف تنظیموں کے لیڈران اور کارکنان اس احتجاجی مظاہرے میں شریک رہے ۔
یڈوکیٹ دنیش ھیگڈے نے وزیراعلیٰ کو بھیجا مراسلہ: حجاب بمقابلہ زعفرانی شال تنازع کے پس منظر میں طلباء کے درمیان ابھرنے والی چپقلش اور آپسی دوری کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر سوشیل ایکٹویسٹ ایڈوکیٹ دنیش ہیگڈے اولیپاڈی نے وزیر اعلیٰ کرناٹکا کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ طلبا کے درمیان بھائی چارگی ، ہم آہنگی اور یگانگت کو فروغ دینے کے لئے منصوبہ بندی کی جائے ۔